Solve your IGNOU Doubts
Solve your IGNOU Doubts
Question:

What is waste reduction in waste management? Explain with an example.

See Answer →
Question:

 Explain the private economics involved in waste management.

See Answer →
Question:

What is a vision statement? Explain the concept with an example

See Answer →
Question:

Define carbon footprints. Enumerate the ways in which a hospital can minimise its carbon footprints.

See Answer →
Question:

 Explain the EPR and Polluter Pays principles wrt BMW.

See Answer →
Question:

Explain the principles of green hospitals

See Answer →
Question:

 Discuss the management of waste in medical camps and dental settings.

See Answer →
Question:

Describe how waste is managed in tuberculosis treatment centres and laboratories

See Answer →
Question:

 Describe the Circular economy wrt Biomedical waste management

See Answer →
Question:

Describe the guidelines for the bar code system in compliance with the BMWM Rules 2016, as
amended

See Answer →
Question:

xplain the process of authorisation under the BMWM Rules, 2016 as amended.

See Answer →
Question:

 Enumerate some major and minor accidents with respect to health care waste management.

See Answer →
Question:

Describe the duties of a waste management officer.

See Answer →
Question:

 Describe the laws related to the management of health care waste in India

See Answer →
Question:

 Describe how a waste audit helps in planning a health care waste management system.

See Answer →
Question:

ہیں۔ سوالوں کے نمبر ان کے سامنے درج ہیں۔
(حصہ الف)
سوال 1– "مقدمہ شعر و شاعری" کا تعارف پیش کیجیے۔ (10)
(یا)
"یادگارِ غالب" پر ایک نوٹ لکھیے۔
سوال 2– درج ذیل اقتباس کی تشریح مع سیاق و سباق کیجیے۔ (10)
"مروت اور لحاظ مرزا کی طبیعت میں بدرجہ غایت تھا۔ باوجود یہ کہ اخیر عمر میں وہ اشعار کی اصلاح دینے سے گھبرانے لگے تھے۔ بایں ہمہ کبھی کسی کا قصیدہ یا غزل بغیر کسی اصلاح کے واپس نہ کرتے تھے۔ ایک صاحب کو لکھتے ہیں۔ "جہاں تک ہو سکا احباب کی خدمت بجا لایا۔ اوراق اشعار لیٹے لیٹے دیکھتا تھا اور اصلاح دیتا تھا۔ اب نہ آنکھ سے اچھی طرح سوجھے نہ ہاتھ سے اچھی طرح لکھا جائے۔ کہتے ہیں کہ شاہ شرف بو علی قلندر کو بہ سبب کبر سن کے خدائے فرض اور پیغمبر نے سنت معاف کر دی تھی۔ میں متوقع ہوں کہ میرے دوست بھی خدمت اصلاح اشعار سے مجھے معاف کریں۔ خطوط شوقیہ کا جواب جس صورت سے ہو سکے گا، لکھ دیا کروں گا۔" باوجود اس کے بھی لوگ مرزا کو برابر ستاتے رہتے تھے۔ ایک دفعہ کہیں مرزا تفتہ نے یہ لکھ دیا تھا کہ آپ نے بہ سبب ذوقِ سخن کے اصلاح اشعار منظور فرمائی تھی۔ اس کے جواب میں لکھتے ہیں۔ "لاحول ولا قوۃ! کس ملعون نے بہ سبب ذوق شعر کے اشعار کی اصلاح منظور رکھی؟! اگر میں شعر سے بیزار نہ ہوں تو میرا خدا مجھ से بیزار۔ میں نے بطریق تبر درویش بر لب درویش لکھا تھا جیسے ابھی جو روزے خاوند کے ساتھ مرتا بھرتا اختیار کرتی ہے، میرا تمہارا وہ معاملہ ہے۔"
(یا)
درج ذیل اقتباس کا مفہوم مع سیاق و سباق بیان کیجیے۔
"سید عباس نے یہ وصیت نامہ پڑھ کر اپنے تربیت پانے کا حال بیان کرنا شروع کیا۔ وہ کہتا تھا کہ: آٹھ نو برس کی عمر میں میری والدہ نے مجھ کو مکتب میں نہیں بٹھایا بلکہ آپ ہی پڑھاتی لکھاتی رہیں۔ تین گھنٹے دو پہر سے پہلے اور دو گھنٹے دوپہر کے بعد، یہ پانچ گھنٹے تو میرے پڑھنے لکھنے کے تھے۔ اس کے سوا صبح سے لے کر رات کے دس بجے تک میرے تمام اوقات اور کاموں میں صرف ہوتے تھے۔ صبح کی نماز کے بعد ایک ایک آدمی کو ساتھ لے کر جنگل ہوا کھانے جاتا تھا اور سورج نکلتے ہی الٹا گھر آتا تھا۔ وہاں سے آتے ہی گرم پانی سے نہا کر اجلے کپڑے پہنتے اور جو کچھ ناشتہ تیار ہوتا وہ کھایا، اس میں اکثر ساتھ بیٹھ جاتے تھے۔ اب میرے پڑھنے کا وقت آیا۔ دس بجے تک مجھ کو اماں جان برابر پڑھاتی رہتی تھیں، اس کے بعد میں اور میری انا کا بیٹا نظام السلام جو میرے کوکا سے عمر میں ایک برس بڑا تھا، گیارہ بجے کے برابر اصطبل میں کھیلتے تھے۔ اس میں دو چار محلے کے لڑکے اور بھی ہمارے ساتھ کھیلنے کو آجاتے تھے۔ گیارہ بجے وہاں سے آکر کھانا کھایا، پھر بارہ بجے تک اشعار دیکھتا رہا، اس کے بعد ہمارے पड़ोस में एक خوش نویس रहते تھے، ان کے پاس جاکر نستعلیق کی مشق کرتا تھا۔ ایک بجے وہاں سے آتا تھا تو ظہر کی نماز پڑھ کر تین بجے تک پھر اماں جان پڑھاتی رہتی تھیں۔ تین بجتے ہی پڑھنے سے مجھے چھٹی ہو جاتی تھی۔ اب..."

 

 


 

See Answer →
Question:

۔
(حصہ الف)
سوال 1– سرسید احمد خان کی تصنیف "آثار الصنادید" کا تعارف پیش کیجیے۔ (10)
(یا)
سرسید احمد خان کی کتاب "خطباتِ احمدیہ" پر تبصرہ کیجیے۔
سوال 2– درج ذیل اقتباس کی تشریح مع سیاق و سباق کیجیے۔ (10)
"نا مہذب آدمیوں کی مجلس میں بھی آپس میں اسی طرح تکرار ہوتی ہے۔ پہلے صاحب سلامت کر کے آپس میں مل بیٹھتے ہیں، پھر دھیمی دھیمی بات چیت شروع ہوتی ہے۔ ایک کوئی بات کہتا ہے، دوسرا بولتا ہے، واہ واہ واہ ہوتی ہے۔ وہ کہتا ہے، "واہ تم کیا جانو"۔ وہ بولتا ہے، "تم کیا جانو"۔ دونوں کی نگاہ بدل جاتی ہے، تیوری چڑھ جاتی ہے، رخ بدل جاتا ہے، آنکھیں ڈراؤنی ہو جاتی ہیں، باچھیں چڑھ جاتی ہیں، لخت نکل پڑتے ہیں، تھوک اڑنے لگتا ہے، باچھوں تک کف بھر آتے ہیں، سانس جلدی چلتا ہے، رگیں تن جاتی ہیں، آنکھ، ناک، بھوں، ہاتھ عجیب عجیب حرکتیں کرنے لگتے ہیں، خفیف خفیف آوازیں نکلنے لگتی ہیں۔ آستین چڑھاتا ہے، کلاہ پھینکا، اس کی گردن اس کے ہاتھ میں اور اس کی داڑھی اس کی مٹھی میں۔ لڑائی ہونے لگتی ہے۔ کسی نے چیخا چبا کر کر تھپڑ مارا تو غراتے ہوئے ایک ادھر چلا گیا اور ایک ادھر اور اگر کوئی بیچ بچاؤ کرنے والا نہ ہو تو کمزور نے لپٹ کر کپڑے جھاڑتے سر سہلاتے اپنی راہ لی۔"
(یا)
درج ذیل اقتباس کا مفہوم مع سیاق و سباق بیان کیجیے۔
"مشنری اسکول بہت جاری ہوئے اور ان میں مذہبی تعلیم شروع ہوئی۔ سب لوگ کہتے تھے کہ سرکار کی طرف سے ہیں۔ بعض اضلاع میں بہت بڑے بڑے عالی قدر حکام منڈیوں ان اسکولوں میں جاتے تھے اور لوگوں کو اس میں داخل اور شامل ہونے کی ترغیب دیتے تھے۔ امتحان مذہبی کتابوں میں لیا جاتا تھا اور طالب علموں سے جو لڑکے کم عمر ہوتے تھے پوچھا جاتا تھا کہ تمہارا خدا کون، تمہارا نجات دینے والا کون اور وہ عیسائی مذہب کے موافق جواب دیتے تھے، اس پر ان کو انعام ملتا تھا۔ ان سب باتوں سے رعایا کا دل ہمارے گورنمنٹ سے پھرتا جاتا تھا۔ یہاں ایک بڑا اعتراض یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر لوگ اس تعلیم سے ناراض تھے تو اپنے لڑکوں کو کیوں داخل کرتے تھے۔ اس بات کو عدم ناراضی پر خیال کرنا نہیں چاہیے بلکہ یہ ایک بڑی دلیل ہے ہندوستان کے کمال خراب حال اور مفلس اور نہایت تنگ اور تباہ حال ہو جانے پر۔ یہ صرف ہندوستان کی احتیاجی اور مفلسی کا باعث تھا کہ لوگ اس خیال سے کہ ان اسکولوں میں داخل ہو کر ہماری اولاد کو کچھ وجہ معیشت اور روزگار حاصل ہو گی۔ ایسی سخت بات کو جس سے بلاشبہ ان کو دلی رنج اور روحانی غم تھا گوارا کرتے تھے نہ رضامندی سے۔"

 

 


 

See Answer →
Question:

ہدایات: سبھی حصوں سے تمام سوالوں کے جوابات دیجیے۔ سوالوں کے نمبر ان کے سامنے درج ہیں۔
(حصہ الف)
سوال 1– تحریک کے اسباب و علل بیان کیجیے۔ (10)
(یا)
دکن میں زیرِ اثر دہلی کے شعری رجحان پر تبصرہ کیجیے۔
سوال 2– رجحان کی تعریف بیان کرتے ہوئے اس کے اسباب و علل پر اظہارِ خیال کیجیے۔ (10)
(یا)
حلقہ ارباب ذوق کے زیرِ اثر اردو افسانہ نگاری پر تبصرہ کیجیے۔
سوال 3– جدیدیت کے پس منظر پر روشنی ڈالیے۔ (10)
(یا)
اردو تنقید پر ترقی پسند ادبی تحریک کے اثرات کی نشان دہی کیجیے۔
(حصہ ب)
سوال 4– فورٹ ولیم کالج کے نثری رجحان سے مفصل بحث کیجیے۔ (15)
(یا)
اردو میں رومانیت کے رجحان پر اظہارِ خیال کیجیے۔
سوال 5– ردِ ایہام گوئی کے رجحان کے امتیازی پہلوؤں کو بیان کیجیے۔ (15)
(یا)
اردو میں حقیقت نگاری کے رجحان سے بحث کیجیے۔
(حصہ ج)
سوال 6– دبستانِ لکھنؤ کے نثری رجحان پر مفصل اظہارِ خیال کیجیے۔ (20)
(یا)
اردو زبان و ادب کے حوالے سے علی گڑھ تحریک کی خدمات بیان کیجیے۔

 

 

 

See Answer →
Question:

نوٹ: سبھی حصوں سے تمام سوالوں کے جوابات دیجیے۔ سوالوں کے نمبر ان کے سامنے درج ہیں۔
(حصہ الف)
سوال 1– میر امن کی شخصیت سے اپنی واقفیت کا اظہار کیجیے۔ (10)
(یا)
فورٹ ولیم کالج پر تبصرہ کیجیے۔
سوال 2– "باغ و بہار" کے امتیازی پہلوؤں کی نشاندہی کیجیے۔ (10)
(یا)
فورٹ ولیم کالج سے منسلک میر امن دہلوی کے رفقاء کے علمی و ادبی کارناموں پر مختصراً اظہار خیال کیجیے۔
سوال 3– "باغ و بہार" کا خلاصہ اپنی زبان میں بیان کیجیے۔ (10)
(یا)
"باغ و بہار" میں ہندوستانی معاشرت کی عکاسی پر ایک مختصر نوٹ لکھیے۔
(حصہ ب)
سوال 4– میر امن کے فن پر تفصیل سے روشنی ڈالیے۔ (15)
(یا)
"باغ و بہار" کے ماخذ پر سیر حاصل گفتگو کیجیے۔
سوال 5– میر امن کی نثر نگاری پر مفصل اظہار خیال کیجیے۔ (15)
(یا)
"باغ و بہار" اور "فسانہ عجائب" کا تقابلی مطالعہ پیش کیجیے۔
(حصہ ج)
سوال 6– ہندوستان में داستان گوئی پر ایک تفصیلی مضمون لکھیے۔ (20)
(یا)
میر امن دہلوی کے عہد پر مفصل اظہار خیال کیجیے۔

 

 

 

See Answer →
Question:

سوالوں کے نمبر ان کے سامنے درج ہیں۔
(حصہ الف)
سوال 1– افسانہ 'کفن' پر ایک مختصر نوٹ لکھیے۔ (10)
(یا)
افسانہ کی تعریف بیان کرتے ہوئے اس کے اجزائے ترکیبی पर روشنی ڈالیے۔
سوال 2– افسانہ 'کالو بھنگی' پر تبصرہ کیجیے۔ (10)
(یا)
قرۃ العین حیدر کی افسانہ نگاری کے امتیازات پر مختصراً اظہارِ خیال کیجیے۔
سوال 3– افسانہ 'لاجونتی' پر ایک مختصر نوٹ لکھیے۔ (10)
(یا)
رومانوی اردو افسانہ کی خصوصیات بیان کیجیے۔
(حصہ ب)
سوال 4– تقسیمِ ہند اور اردو افسانہ پر ایک تفصیلی مضمون تحریر کیجیے۔ (15)
(یا)
پریم چند کی افسانہ نگاری کے امتیازات بیان کیجیے۔
سوال 5– جدید اردو افسانہ پر مفصل اظہارِ خیال کیجیے۔ (15)
(یا)
عصمت چغتائی کی افسانہ نگاری پر ایک تفصیلی مضمون قلم بند کیجیے۔
(حصہ ج)
سوال 6– اردو میں افسانے کی روایت پر مفصل اظہارِ خیال کیجیے۔ (20)
(یا)
سعادت حسن منٹو کے سوانحی احوال و کوائف بیان کرتے ہوئے ان کی افسانہ نگاری سے بحث کیجیے۔
سوال 7– ترقی پسند اردو افسانہ پر مفصل مضمون لکھیے۔ (20)

 

 

 

See Answer →
IGNOU NEWS
Assignment Submission Last Date Extended Till 30 June 2026 Click Here★★★IGNOU June 2026 TEE Date Sheet Released Click Here★★★
Top
📞
Call Support Instant phone assistance
→
🟢
WhatsApp Chat Fast live messaging
→
Email Us Business enquiries & support
→