اردو میں مطابقت کے عمل پر تبصرہ کیجیے
See Answer →فیض احمد فیض کی حیات و ادبی خدمات پر روشنی ڈالتے ہوئے ان کی نظم نگاری کا جائزہ لیجیے۔
See Answer →جدید اردو نظم کے موضوعات، ہیئت اور اقسام سے مفصل بحث کیجیے۔
See Answer →اکبر الہ آبادی کی حیات و ادبی خدمات اور ان کی نظم نگاری پر تفصیلی مضمون لکھیے۔
See Answer →جدید اردو نظم کے فن اور اس کی خصوصیات پر مفصل اظہار خیال کیجیے۔
See Answer →
مندرجہ ذیل اشعار کا مع سیاق و سباق تجزیہ کیجیے۔
خواب اب حسنِ تصور کے افق سے ہیں پرے
دل کے اک جذبۂ معصوم نے دیکھے تھے جو خواب
اور تعبیروں کے تپتے ہوئے صحراؤں میں
تشنگی آبلہ پا، شعلہ بہ کف موجِ سراب
یہ تو ممکن نہیں بچپن کا کوئی دن مل جائے
یا پلٹ آئے کوئی ساعتِ نایابِ شباب
پھوٹ نکلے کسی افسردہ تبسم سے کرن
یا دمک اٹھے کسی دستِ بریدہ میں گلاب
آہ پتھر کی لکیریں ہیں کہ یادوں کے نقوش
کون لکھ سکتا ہے پھر عمرِ گذشتہ کی کتاب
بیتے لمحات کے سوئے ہوئے طوفانوں میں
تیرتے پھرتے ہیں پھوٹی ہوئی آنکھوں کے حباب
تابشِ رنگِ شفق، آتشِ روئے خورشید
مل کے چہرے پہ سحر آئی ہے خونِ احباب
جانے کس موڑ پہ کس راہ میں کیا بیتی ہے
کس سے ممکن ہے تمناؤں کے زخموں کا حساب
آستینوں کو پکاریں گے کہاں تک آنسو
اب تو دامن کو پکڑتے ہیں لہو کے گرداب
دیکھتی پھرتی ہے ایک ایک کا مُنہ خاموشی
جانے کیا بات ہے شرمندہ ہے اندازِ خطاب
دربدر ٹھوکریں کھاتے ہوئے پھرتے ہیں سوال
اور مجرم کی طرح ان سے گریزاں ہے جواب
سرکشی، پھر میں تجھے آج صدا دیتا ہوں
میں ترا شاعرِ آوارہ و بے باک و خراب
پھینک پھر جذبۂ بے تاب کی عالم پہ کمند
ایک خواب اور بھی اے ہمتِ دشوار پسند
یا
آنکھیں تری تلاش میں ہیں محوِ جستجو
آ ! اے عروسِ حبِ وطن میرے بر میں تو
آ مجھ سے ہم کنار ہو اے شوخِ خوب رو
آ ! اے نگار ! تجھ کو گلے سے لگاؤں میں
گردن ہو تیری اور مرے دستِ آرزو
وہ دن خدا کرے کہ مناؤں شبِ وصال
میرا مشامِ جاں ہو تری زلفِ مشک بو
زانو ہو تیرا اور سرِ شوریدہ ہو مرا
خلوت میں ہو نہ ذکرِ مے و شیشہ و سبو
تیری شرابِ عشق کا آنکھوں میں ہو سرور
بانہیں ترے گلے میں ہوں ، لب پر یہ گفتگو
لپٹوں میں بے خودی میں جو تجھ سے شبِ وصال
پھوٹے وہ آنکھ جس کو نہ ہو تیری جستجو
ٹوٹیں وہ پاؤں جن کو نہ تیری تلاش ہو
وہ دل ہو داغ جس میں نہ ہو تیری آرزو
وہ گھر ہو بے چراغ جہاں تیری ضو نہ ہو
تیرے سوا جو غیر کی ہو مجھ کو جستجو
دنیا و آخرت میں نہ انجام ہو بہ خیر
کافر ہوں میں جو مجھ کو بتوں کی ہو آرزو
حوروں پہ میں مروں تو جہنم نصیب ہو
اس کے لیے کہ جس کا پرستش کدہ ہے تو
ناقوس اور اذاں میں نہیں قیدِ کفر و دیں
تیرا اشارہ ہو تو برہمن کرے وضو
گنگا نہائے شیخ اگر تیرا اذن ہو
تیرے فدائیوں میں ہوں اے شوخِ خوب رو
تیرا طریقِ عشق ہی ایمان ہے مرا
جلوہ نہ ہو کسی بتِ رعنا کا سامنے
وہ دن خدا کرے کہ ہو آنکھوں میں تو ہی تو
See Answer →
علامہ اقبال کی نظم نگاری کے امتیازی پہلوؤں کو بیان کیجیے۔
See Answer →جدید اردو نظم کے تہذیبی پس منظر پر مفصل اظہار خیال کیجیے۔
See Answer →محمد حسین آزاد کی حیات و ادبی خدمات پر اظہار خیال کیجیے۔
See Answer →حلقہ ارباب ذوق کے زیر اثر اردو نظم نگاری پر تبصرہ کیجیے۔
See Answer →ساحر لدھیانوی کی حیات و ادبی خدمات پر اظہار خیال کیجیے۔
See Answer →انجمن پنجاب کے زیر اثر اردو نظم نگاری پر ایک نوٹ لکھیے۔
See Answer →جدید اردو نظم کے سماجی اور سیاسی پس منظر پر مختصر اظہار خیال کیجیے۔
See Answer →दक्षिण एशिया में मानव सुरक्षा
See Answer →मानव सुरक्षा की वैश्विक स्थिति
See Answer →मानव सुरक्षा का मापन
See Answer →अंतर्राष्ट्रीय सहयोग
See Answer →हाशिए पर खड़े लोगों का सशक्तिकरण
See Answer →असंगठित श्रमिक
See Answer →