Solve your IGNOU Doubts
Solve your IGNOU Doubts
Question:

Find the solution of the initial boundary value problem:

equation

subject to given initial and boundary conditions:

equation

equation

equation

You may use step length along x-axis, h = 2.0 and solve by Schmidt method with mesh ratio equation

See Answer →
Question:

Find the solution of the heat conduction equation subject to the given initial and boundary conditions:

 

equation

equation

equation

Using Laasonen method with equation and . equation Integrate for two levels.

See Answer →
Question:

Find the Fourier transform of equation

See Answer →
Question:

Find L{F(t)), if:

equation

See Answer →
Question:

Find:

equation

See Answer →
Question:

Using method of Ferobenius, find the solution of the differential equation:

equation

near x = 0.

See Answer →
Question:

Express f(x)=x+ 3x+ 4x- x + 2 in terms of Legendre polynomials.

See Answer →
Question:

Solve the differential equation:

x2y" +6xy'+(6+x2)y=0

in series about x = 0.

See Answer →
Question:

دلاور فگار کے سوانحی احوال و کوائف اور ان کی طنزیہ و مزاحیہ شاعری پر تفصیلی مضمون تحریر کیجیے

See Answer →
Question:

اُردو نثر میں طنز و مزاح کی روایت پر مفصل اظہار خیال کیجیے۔

See Answer →
Question:

رشید احمد صدیقی کے سوانحی احوال و کوائف اور ادبی خدمات پر روشنی ڈالتے ہوئے ان کی طنز و مزاح نگاری کا تفصیلی جائزہ لیجیے

See Answer →
Question:

طنز و مزاح کے فن، اقسام اور اس کی اہمیت و افادیت سے مفصل بحث کیجیے۔

See Answer →
Question:

پطرس بخاری کی طنز و مزاح نگاری سے مفصل بحث کیجیے۔

 

درج ذیل اشعار کا تجزیہ مع سیاق و سباق کیجیے۔

بھگوان مرے دل کو وہ زندہ تمنا دے

جو حرص کو بھڑ کا دے اور جیب کو گر مادے

جنت کے اس بندے کو سیاست کے اس میدان میں چمکائے اور اسے پہلے سے زیادہ بلند کرے۔

اوروں کا جو حصہ ہے مجھ کو وہی داتا دے

محروم بادشاہوں سے کہو کہ یہ وہ نہیں ہیں جو خشک آنتوں کو فوراً چکنا کر دیں۔

ہاں مجھے چکن دو، ہاں مجھے گرم دو

تحریر میں چستی دے تقریر میں گرمی دے

جنا کو جو پھیلائے اور قوم کو بہکا دے تدبیر کو پھرتی دے تقدیر کو جھٹکا دے

کرسی وزارت پر اک جست میں چڑھ جاؤں

مجھے یہ راز سکھاؤ کہ تم کہاں پیدا ہوئے ہو۔

سمندر کو قطرہ دینے والا، سمندر کو قطرہ دینے والا، احسان کی آڑ میں چوری کا سراغ دینے والا، سُرور کو رحم کا جذبہ عطا کرنے والا۔

مفلس کی لنگوٹی تک باتوں میں اتر والوں

قاتل کی طبیعت کو بسمل کی ادا سکھلا

تھوڑی سی جو غیرت ہے وہ بھی نہ رہے باقی

احساس حمیت کو اس دل سے نکلوادے

القصہ مرے مالک تجھ سے یہ گزارش ہے

مرغی کو سونے کے انڈوں سے نوازا جائے۔

See Answer →
Question:

ظریف لکھنوی کی طنزیہ و مزاحیہ شاعری پر تفصیلی مضمون لکھیے۔

یا

درج ذیل اشعار کا تجزیہ مع سیاق و سباق کیجیے۔ میرے اک شاگرد نے لکھا ہے مجھ کو ایک خط اس نے مجھ کو خط میں لکھا ہے کہ اے استاد فن آپ کے ہر شعر پر ہوتی ہے فن کاری کی چھاپ میں تو قبلہ آپ کے ادنی پر ستاروں میں ہوں منزل فن میں سمجھ کر اپنا لیڈر آپ کو

جس کو پڑھ کر ہو گیا ہے میرا اندازہ غلط آپ ہیں اُردو کی پاپوش اور میں اس کی کرن شہر کے پیچیدہ پیچیدہ ادیبوں میں ہیں آپ آپ میرے کفش ہیں میں کفش برداروں میں ہوں رفع حاجت کے لیے پڑھتا ہوں اکثر آپ کو کیسے فرماؤں غزل اپنی ستارہ کے لیے

مجھ کو یہ سمجھائیے بہر خدارا کے لیے

آپ کی آواز میں ہے ایک " وجدانی سرور " میں ابھی تک ہنستی ہوں، اس میں کوئی شک نہیں سوچتا ہوں کہ بیٹھوں کس کے در کے سامنے پھل لالہ اگ رہا ہے گلستان کی خاک سے

آپ کے "ترنم " سے بھی پر کیف ہے " تحت الشعور " مجھ کو فن شعر میں پوری طرح ادرک نہیں

سینکڑوں اُستاد ہے پیش نظر کے سامنے دوسرا مصرع لگا کر بھیج دیجیے ڈاک سے

See Answer →
Question:

درج ذیل اقتباس کی تشریح مع سیاق و سباق کیجیے۔

انگریزوں کا وطیرہ ہے کہ وہ کسی عمارت کو اس وقت تک خاطر میں نہیں لاتے جب تک وہ کھنڈر نہ ہو جائے۔

اسی طرح ہمارے ہاں بعض محتاط حضرات کسی کے حق میں کلمہ خیر کہنا روا نہیں سمجھتے تاوقتیکہ ممدوح کا چہلم نہ ہو جائے۔ آغا کو بھی ماضی بعید سے ، خواہ اپنا ہو یا پر آیا، والہانہ وابستگی تھی جس کا ایک ثبوت ان کی 1927 ء ماڈل کی فورڈ کار تھی جو انھوں نے 1955ء میں ایک ضعیف العمر پارسی سے تقریباً مفت لی تھی۔ اس کی سب سے بڑی خوبی یہ تھی کہ چلتی بھی تھی اور وہ بھی اس میانہ روی کے ساتھ کہ محلے کے لونڈے ٹھلوے جب اور جہاں چاہتے ، چلتی گاڑی میں گود کر بیٹھ جاتے۔ آغا نے کبھی تعرض نہیں کیا کیوں کہ اگلے چوراہے پر جب یہ دھکڑ دھکڑ کر کے دم توڑ دیتی تو یہی سواریاں دھکے لگا لگا کر منزل مقصود تک پہنچا آتیں۔ اس صورت میں پٹرول کی بچت تو خیر تھی ہی لیکن بڑا فائدہ یہ تھا کہ انجن بند ہو جانے کے سبب کار زیادہ تیز چلتی تھی۔ واقعی اس کار کا چلنا اور چلانا معجزہ فن سے کم نہ تھا۔ اس لیے کہ اس میں پٹرول سے زیادہ خون جلتا تھا"۔

 

درج ذیل اقتباس کا مفہوم مع سیاق و سباق بیان کیجیے۔

رنگ سانولا مگر رو کھا، قد خاصا اونچا تھا مگر چوڑان نے لمبان کو دبا دیا تھا۔ دُہر ابدن، گدرا ہی نہیں بلکہ موٹاپے کی طرف کسی قدر مائل۔ فرماتے تھے کہ بچپن میں ورزش کا شوق تھا۔ ورزش چھوڑ دینے سے بدن جس طرح مر مروں کا تھیلا ہو جاتا ہے ، بس یہی کیفیت تھی۔ بھاری بدن کی وجہ سے چوں کہ قد ٹھگنا معلوم ہونے لگا تھا، اس لیے اس کا تکملہ اونچی کی ٹوپی سے کر دیا جاتا تھا۔ کمر کا پھیر ضرورت سے زیادہ تھا۔ تو ند اس قدر بڑھ گئی تھی کہ گھر میں ازار بند باندھنا بے ضرورت ہی نہیں ، تکلیف دہ سمجھا جاتا تھا اور محض ایک گرہ کو کافی خیال کیا گیا تھا۔ گرمیوں میں تہد (تہ بند ) باندھتے تھے ، اُس کے پلواڑ سنے کے بجائے ادھر اُدھر ڈال لیتے تھے مگر اُٹھتے

وقت بہت احتیاط کرتے تھے۔ اول تو قلب بنے بیٹھے رہتے تھے۔ اگر اُٹھنا ہوا تو پہلے اندازہ کرتے تھے کہ فی الحال اُٹھنے کو ملتوی کیا جا سکتا ہے یا نہیں۔ ضرورت نے بہت مجبور کیا تو ازار بند کی گرہ یا تہہ کے کونوں کے اُڑ نے کا دباؤ تو ند پر ڈالتے تھے۔ سر بہت بڑا تھا مگر بڑی حد تک اُس کی صفائی کا انتظام قدرت نے اپنے اختیار میں رکھا تھا۔ جو تھوڑے رہے سہے بال تھے ، وہ اکثر نہایت احتیاط سے صاف کرادیے جاتے تھے ، ورنہ بالوں کی یہ گر ، سفید مقیش کی صورت میں، ٹوپی کے کناروں پر جھالر کا نمونہ ہو جاتی تھی۔ آنکھیں چھوٹی چھوٹی، ذرا اندر کو دھنسی ہوئی تھیں بھو۔ میں گھنی اور آنکھوں کے اوپر سایہ افگن تھیں۔ آنکھوں میں غضب کی چمک تھی۔ وہ چمک نہیں جو غصے کے وقت نمودار ہوتی ہے بلکہ یہ وہ چمک تھی جس میں شوخی اور ذہانت کوٹ کوٹ کر بھری تھی۔ اگر میں ان کو مسکراتی ہوئی آنکھیں' کہوں تو بے جانہ ہو گا"

See Answer →
Question:

رضا نقوی واہی کے سوانحی احوال و کوائف اور خدمات پر ایک نوٹ لکھیے۔

درج ذیل اشعار کا مفہوم مع سیاق و سباق بیان کیجیے۔

خدا حافظ مسلمانوں کا اکبر یہ عاشق شاہد مقصود کے ہیں

مجھے تو ان کی خوشحالی سے ہے یاس نہ جائیں گے ولیکن سعی کے پاس

سناؤں تم کو اک فرضی لطیفہ کہا مجنوں سے یہ لیلیٰ کی ماں نے

کیا ہے جس کو میں نے زیب قرطاس

کہ بیٹا تو اگر کر لے ایم اے پاس

تو فوراً بیاہ دوں لیلیٰ کو تجھ سے کہا مجنوں نے یہ اچھی سنائی کجا یہ فطرتی جوش طبیعت

بلا دقت میں بن جاؤں تری ساس

کجا عاشق کجا کالج کی بکواس کجا ٹھونسی ہوئی چیزوں کا احساس

بڑی بی آپ کو کیا ہو گیا ہے یہ اچھی قدر دانی آپ نے کی دل اپنا خون کرنے کو ہوں موجود

ہرن پہ لادی جاتی ہے کہیں گھاس مجھے سمجھا ہے کوئی ہر چرن داس نہیں منظور مغز سر کا آماس

یہ جو حالت تک پہنچی۔

چنانچہ میں نے افسوس اور افسوس کے ساتھ استعفیٰ دے دیا

See Answer →
Question:

عصر حاضر میں اُردو طنز و مزاح پر ایک نوٹ لکھیے۔

See Answer →
Question:

کنہیالال کپور کی طنز و مزاح نگاری کے امتیازی پہلوؤں کو بیان کیجیے۔

 

See Answer →
Question:

 

" باغ و بہار " کی نمایاں خصوصیات بیان کیجیے۔

See Answer →
Question:

 

فورٹ ولیم کالج کا تعارف پیش کیجیے۔

See Answer →
IGNOU NEWS
Assignment Submission Last Date Extended Till 30 June 2026 Click Here★★★IGNOU June 2026 TEE Date Sheet Released Click Here★★★
Top
📞
Call Support Instant phone assistance
🟢
WhatsApp Chat Fast live messaging
Email Us Business enquiries & support